دنیا کے دس خطرناک جانور

دنیا کے دس خطرناک جانور

دس۔ دریائی گھوڑا

Angry-Hippopotamus-showing-his-large-Mouth-Wallpaper

ایک دریائی گھوڑے کاوزن زیادہ سے زیادہ آٹھ ہزار پاؤنڈ ہوسکتاہے، جبکہ اوسطن ساڑھے تین ہزار پاؤنڈ ہوتاہے۔ یہ بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتاہے، اور چار فٹ تک اپنا منہ کھول سکتاہے اسکے دانت اسقدر مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ پتھر کو توڑ کرریزہ ریزہ کرسکتاہےیہ عام طور پر براعظم افریقہ کے جنگلوں میں دریاؤں کے کناروں پرپائے جاتے ہیں۔ اور دوسرے کسی بھی بڑے جانور کی نسبت انسان کیلیے سب سے زیادہ مشکلات کا سبب بنتے ہیں

 

نو۔ آسٹریلوی باکس جیلیفش

jelly fish sting 1

 انڈو۔پیسیفک یا آسڑیلین باکس جیلی فش (چائیرونکس فلیکری) ابھی تک دنیا کی سب سے زہریلی سمندری مخلوق کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ آسڑیلیا کے شمالی سمندروں اور انڈو۔پیسیفک کے گرم پانیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے جسم پر ساٹھ سے زیادہ خاردار پتیاں ہوتی ہیں اور ہر ایک پتی پندرہ فٹ لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ حصہ نیڈوسٹس سے گھراہوتاہےاور ہر نیڈوسٹس کے اوپر چھوٹے چھوٹے سوئی نما کانٹے ہوتے ہیں جو ٹاکسنز سے بھرپور ہوتےہیں ان سب کو ملایا جائے توایک جیلیفش پچاس بندے قتل کرسکتی ہے۔ اسکے کاٹنے پر انسان سکتے میں چلا جاتا ہے یوں ڈوب جانے خطرہ ہوتاہے

آٹھ ۔ گریٹ وائٹ شارک

A Great White shark jumps out of the wat

 یہ اوسط(ن) پندرہ فٹ لمبی ہوتی ہے، جبکہ آری نما تیز دھار تین سو دانتوں کے علاوہ اسکے منہ میں چار فٹ چوڑے جبڑے ہوتےہیں۔ یہ عام طور بہت بڑی تعداد میں غذا کا استعمال کرتی ہے۔ اور اس کی غذا میں بہت بڑی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ انسان کو اپنی غذا بنانا اسکی ترجیح تو نہیں پر شکار کرنے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ اسکی پسندیدہ غذا سمندری شیر اور جھینگے ہیں۔تحقیق سے پتا چلا ہے کہ شارک کسی بھی چیز کے بارے میں جائزہ لینے کیلیے ایک مرتبہ کاٹتی ہے اور کچھ ایسا ہی رویہ انسانوں کے ساتھ بھی اپناتی ہے مگرایک دفعہ ڈسے جانے کیبعد انسان کا بچنا مشکل ہوجاتاہے

سات۔ گرزلی ریچھ

article-2194244-06039FDD0000044D-389_634x649

یہ ریچھ شمالی امریکہ کے براؤن ریچھ کی طرح کا ہوتاہے۔ اس کاوزن چار سوپاؤنڈ سے لے کر آٹھ سوپاؤنڈ تک ہوتاہے۔ نر ریچھ مادہ کینسبت دوگنا وزن رکھتاہے۔ یہ جب اپنے پچھلے پاؤں پر کھڑا ہوتاہے تو آٹھ فٹ تک اونچاہوجاتاہے۔ اتنے وزن دار جسم کے باوجود بھی یہ پینتیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتاہے۔ اپنے دفاع کی خاطر یاپھر بھوک کیصورت یہ آپ پر حملہ آور ہوسکتاہے

چھ ۔ کیپ بیفیلو

Cape-buffalo-bulls-fighting

اس قسم کی بھینس افریقہ میں پائی جاتی ہے اور اسے عام طور پر “کالی موت” کے نام سے یاد کیا جاتاہے کیونکہ یہ کرہ ارض پر سب سے خطرناک جانور ہے۔ ان کے بارےمیں پیشگی کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ انکارویہ انتہائی جارحانہ ہوتاہے۔ اسکا وزن نوسوپاؤنڈ سے اٹھارہ سو پاؤنڈ کے درمیان ہوتاہے،ماسوائے چندایک بھینسوں کے جواکیلی رہتی ہوں یہ جھرمٹ میں رہنا پسند کرتی ہے۔ یہ اپنے تیز دھار سینگ کا استعمال کرکے شیر،مگرمچھ پر یاپھر کسی بھی شکاری کو زخمی کرکے اپنادفاع کرتی ہے۔ یہ ہرسال دوسو زیادہ انسانوں کو موت کی نیند سلا دیتی ہے

پانچ۔ ہاتھی

elephant-car-scratch-4-2014-08-08

ہاتھی کرہ ارض پرپائے جانے والے میملزمیں سب سے بڑاہے۔ یہ ایشیااور افریقہ کے کچھ حصوں میں پایاجاتاہے۔ عام طورپر انکا رویہ دوستانہ ہواکرتاہےمگر بعض اوقات یہ غصے میں آکر بہت سے نقصان کاسبب بنتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ یہ اسی شخص پر حملہ آورہوجائیں جوکہ کئی سالوں سے ان کی دیکھ بھال کررہاہو۔  کیونکہ ہاتھی کاوزن بہت زیادہ ہوتاہے ساتھ میں یہ طاقت بھی رکھتے ہیں اسلیے ایک لمحے کا غصہ بھی مہلک ثابت ہوسکتاہے۔ ہر سال ہاتھی کے حملے کی زد میں آکر پانچ سوسے زیادہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں

چار۔ مگرمچھ

newseventsimages

نمکین پانی میں پایا جانے والا مگرمچھ دنیا کا سب بڑا رینگنے والا جانور ہے۔ دریائے نیل اور نمکین پانی میں پائے جانے والے مگرمچھ انتہائی خطرناک ہیں اور ہر سال سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کاباعث بنتے ہیں۔ یہ ایشیا،افریقہ،امریکہ اور آسڑیلیا کے سست رفتار دریاؤں اور غیرمنجمد پانیوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بہت سی اقسام کے جانور کھاتے ہیں چاہے مردہ ہوں یازندہ۔ اسکا ناک ،کان اور آنکھیں سب سرکے اوپر ہوتے ہیں اسی لیے شکار میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ عام طور پر انکی لمبائی پانچ سے بیس فٹ تک ہوتی ہے۔ہر سال آٹھ سو سے زیادہ لوگ اسکے حملے کی زد میں آکر ہلاک ہوجاتے ہیں

تین۔ افریقی شیر

92-639x450

 افریقن شیرکی حیران کن رفتار ،تیزدھارپنجےاور دانت سب شکار کیلیے بہترین ہتھیار ہیں۔ یہ ایک گروہ کیصورت میں حملہ آور ہوتاہے اور اپنے شکار کے پیچھے پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتارسے بھاگنے کی صلاحیت رکھتاہے شیرنیاں زیادہ تر کیپ بیفیلو،زیبراز اور افریقن چکار کاشکار کرتے ہیں۔ جبکہ شیر کم ہی شکار میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے خاندان کے دفاع میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ شیر لوگوں کے گھروں،گاڑیوں اور مالز میں گھس کر بہت ساجانی اور مالی نقصان کرچکے ہیں۔ اور شیر ہر سال سینکڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں

دو۔ سانپ

Red-Mountain-Rat-Snake-Oreocryptophis-porphyraceus-formerly-Elaphe-porphyracea--510x382

سانپوں کی بہت سی اقسام انسان کیلیے خطرناک ہیں۔ چار سوپچاس سے زیادہ اقسام زہریلی ہیں اور پچاس ایسی کہ جوانسان کاقتل کرسکتی ہیں۔ سب سے خطرناک اقسام افریقہ،  ایشیاء اور شمالی امریکہ میں پائی جاتی ہیں۔ کارپٹ وائپر کے ڈسنے سے دنیا میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ اس کے ڈسنے سے متاثرین کاخون منجمد نہیں ہوتااور خون رستا رہتا ہے جس وجہ سے وکٹم موت کاشکار ہوجاتاہے۔ تائیپن اور فائیرس دنیا میں سب سے زہریلے سانپ ہیں

ایک۔ مچھر

112-600x450

خطرناک ترین جانوروں کی فہرست میں اول پوزیشن پر مچھر براجمان ہیں۔ یہ خون چوسنے والا کیڑا ہر سال اپنے زہر سے لاکھوں لوگوں کی جان لے لیتاہے۔ یہ بڑی آسانی سے بیماریاں پھیلا سکتاہےجیسا کہ ملیریا۔ اسکے علاوہ یہ ایلیفینٹیاسس ،پیلابخاراور نیل وائرس جیسی بیماریاں پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ہر طرح کے ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *