یہ بے بسی کیوں ہے؟

یہ بے بسی کیوں ہے؟

16bxzr9
جو معاشرہ نفرتوں کی آگ جلا کر درد مندوں کی آہ وبکا کا منظر خا موش تماشائیوں کی

مانند دیکھنے کا عادی ہو چکا ہو۔ جہاں مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بھوک اور افلاس

کی وجہ سے مایوس ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتی ہوں۔ درس گاہیں ، عبادت

گاہیں اور تفریح گاہیں دہشت گردی کی وارداتوں سے لرز اٹھتی ہوں۔ روشنیوں کے شہر

میں موت کا سکوت طاری ہو، پھولوں کے شہر میں 16 دسمبر کے جیسے المناک

واقعات پیش آنے لگیں، زندہ دلان لاہور شہریوں کو مردہ جانوروں کا گوشت کھلانے میں

مگن ہوں، کوئٹہ اپنی بکا کی جنگ لڑ رہا ہو۔ سیالکوٹ میں منیب اور موغیت کا بہیمانہ

قتل ؛ رینجرز کے ہاتھوں مارے جانے والے سرفراز شاہ کی دل سوز آہیں اور سسکیاں ،

شاہ زیب خآنزادہ مرڈر کیس، چنی گوٹھ بہاولپور میں ہونے والی انسانیت کی توھین، بدین

میں مقدس کی پاکیزگی کیسے تار تار ہوئی سب بیان کرنا ازخود کسی سانحے سے کم نہیں۔

ہر طرف خوف تھا اک شور سا مچا ہوا تھا
غور جو کیا ہرکوئی خود سے ڈرا  ہوا  تھا

حکمرانوں کی شاہاناں زندگیاں ، عدالتوں میں بکتا ہوا انصاف ، درسگاہوں کا زوال ، مکتب

فکر کی قلت ، ژولیدہ فکر دانشوروں کی ریل پھیل ، قانون شکنی کی حوصلہ افزائی  کس

کس کوتاہی کا ذکر کروں یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا۔ مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے

اس سوسائٹی کے لوگ  اب روشن صبح کے انتظار میں ہیں۔

مگر اس وفت تک سویرا ہمارا مقدر نہیں بن سکتا جب تک کہ ہم بے آسرو کا سہارا  نہیں

بنتے ، پیار اور محبت کا پیغام عام نہیں کرتے۔ ہمیں برداشت کے مادے کو توانائی بخشنی ہو

گی۔ حسینیت کا پرچار کرتے ہوئے اپنی مقتل گاہوں کو مکتب گاہوں میں تبدیل کرنا ھوگا۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *